top of page

بے خودی

  • Dec 9, 2015
  • 1 min read

بے خودی میں وہاں تک چلیں، جسم سے روح وجاں تک چلیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے،آ ذرا کہکشاں تک چلیں

آنکھیں وہی، چہرے وہی، باتاں وہی، لہجے وہی خوشبو وہی، غنچے وہی، شاخاں وہی، پتے وہی اِس زمیں سے زمیں کا سفر اب نہیں اب کسی آسماں تک چلیں بے خودی میں وہاں تک چلیں، جسم سے روح وجاں تک چلیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے،آ ذرا کہکشاں تک چلیں

ہِیر اب کہاں،شیریں کہاں، سسّی کہاں ، لیلیٰ کہاں فرہاد اور ، مجنوں کہاں، پُنّوں کہاں ، رانجھا کہاں داستانیں یہ ساری پرانی ہوئیں اب نئی داستاں تک چلیں بے خودی میں وہاں تک چلیں، جسم سے روح وجاں تک چلیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے،آ ذرا کہکشاں تک چلیں


 
 
 

Comments


 Anas  Yaqoob

 

 

bottom of page