بیابانی کا بیان ( نثری نظم )
- Dec 12, 2015
- 1 min read
خلقت نیند کی گولیاں نگل کر خوابوں کا انتظار کرتی ہے بہت گرانی ہے۔۔۔۔۔ اس جہنم میں جنت لاوڈ سپیکر پر بکتی ہے اور آٹا لائن میں۔۔۔ ادھ بجھے مکان اپنی وحشت سے ہراساں ہیں دلوں میں ڈینگی کا خوف خدا کے خوف سے زیادە ہے ایمان، نظریات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہے قانون کے قائدے کرنسی نوٹوں پر چھپتے ہیں مساوات کا درس دینے والے پچھتاوے کے مرض میں مبتلا ہیں سرخ آندھی میں گم ہوتے ہوئے راستے منزل کی موجودگی کو بے معانی بنا رہے ہیں سلام پھیرتے ہوئے نمازی جماعت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جیکٹ میں بھرا ہوا بارود سب سے بڑی حقیقت ہے قاری موت تلاوت کرنے کی تنخواە لیتا ہے درس گاہیں کاروبار میں مبتلا ہیں سمگلر یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں اخبار اشتہاروں میں خبریں گم کر دیتے ہیں پڑھنے والوں نے درخت کی چھاوں میں قائم پرائمری سکول سے کوئی سبق نہیں سیکھا


































Comments