غزل............................ وَرْد بزمی
- Dec 9, 2015
- 1 min read

ملی نہ اس لیے دہلیزِ آگہی اب تک خرد نہ پا سکی وحشت پہ برتری اب تک
وہ برف باری تحیُر کی تم چکی لیکن بدن پہ پھر بھی ہے طاری وہ کپکپی اب تک
وہ آبگینہ ء امید کتنا نازک تھا کہ ٹوٹنے کی صدا بھی نہیں سنی اب تک
نہ تیرگی نہ اجالا شفق پہ ٹھہرے ہے بھٹک رہی ہے شبِ دل میں روشنی اب تک
چمن میں وَرْد کی خوشبو سمٹ نہیں سکتی یہ اور بات ہوا ہی نہیں چلی اب تک

































Comments